ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھارت بند کی ریاستی کانگریس اور جے ڈی ایس نے بھی تائید کی، ودھان سودھا کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ

بھارت بند کی ریاستی کانگریس اور جے ڈی ایس نے بھی تائید کی، ودھان سودھا کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ

Tue, 08 Dec 2020 11:56:07    S.O. News Service

بنگلورو،8؍دسمبر (ایس او نیوز) تین زرعی ترمیمی قوانین کو واپس لینے کے مطالبہ پر پچھلے بارہ دنوں سے دہلی میں احتجاج کررہے کسانوں نے آج 8دسمبر کو بھارت بند کی آواز دی ہے۔اس بند کی تائید کرنے کا بشمول ریاستی کانگریس، کرناٹک پردیش جے ڈی ایس مختلف کنڑانواز انجمنیں اور کئی مسلم تنظیموں جن میں جمعیت علماء کرناٹک، جماعت اسلامی کرناٹک، جمعیت اہل حدیث کرناٹک، سنی جمعیت علماء کرناٹک، ملی کونسل کرناٹک، جماعت اہل سنت کرناٹک، کرناٹک اہل سنت والجماعت، انجمن خدام المسلمین، حضرت جامعہ بلال، انجمن امامیہ کرناٹک، جلوس محمدی کمیٹی اور صدائے اتحاد کرناٹک بھی شامل ہیں، نے اعلان کیا ہے۔پچھلے دنوں 5دسمبر کو مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے خلاف منائے گئے کرناٹک بند کے مقابلے کل منایاجارہا بھارت بند سخت ہوگا اور مختلف شعبہ ہائے حیات پر اس بند کا اثر پڑے گااور عام زندگی پر بھی اس کا زیادہ اثر پڑسکتا ہے۔ودھان سودھا میں سرمائی لجس لیٹرس سیشن کا آغاز ہوچکا ہے۔کل بند کے دوران مختلف کسان تنظیموں نے ودھان سودھا کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی لئے آج ہی سے ودھان سودھا کے اطراف پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا ہے۔کل بند کے دوران ایک کنڑا نواز تنظیم نے شہر کے موریا سرکل میں حکومت ہند کی کسان د شمن پالیسی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی رعیت سنگھا اور ہسیرو سینا کے ریاستی صدر کوڑہلی چندر شیکھر نے اس بھارت بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔واٹال ناگراج کی قیادت والی کنڑا نواز یونین رعیت ہوراٹا سمیتی، اے پی ایم سی مزدور طبقہ،گلیوں کے تاجر، آنگن واڑی ورکرس اور سی آئی ٹی یو نے بھارت بند کی تائید کی ہے۔

کانگریس کی تائید:ریاستی کانگریس پارٹی نے اس بند کی مکمل تائید کا اعلان کیا ہے۔ مقامی اور ریاستی سطح پرمقامی کمیٹیاں بھی بند منائیں گی۔اس بند کے لئے بینکوں کے ملازمین نے بھی تائید کا اعلان کیا ہے، اس لئے عام زندگی پر بند کا زیادہ اثر پڑسکتا ہے۔کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے بھی آج باقاعدہ بند کی مکمل تائید کا اعلان کیا ہے۔آج صبح کانگریس کے سینئر لیڈروں کا اجلاس طلب کرکے اس اجلاس میں بند کی مکمل تائید کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کانگریس ورکرس اور مقامی لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بند پرامن ہونا چاہئے، کسی کی ملکیت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کل ودھان سودھا کے روبرو کانگریس احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔کہاجارہا ہے کہ 2لاکھ 80ہزار لوگ کسانوں کے اس بند کی تائید کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں صدر ہند کو عرضداشت پیش کی گئی ہے۔دہلی میں کسان برادری نے یہ عرضداشت صدرہند کو سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قیادت میں پیش کی ہے۔

انسداد گؤکشی قانون: شیوکمار نے بتایا کہ ریاست میں انسداد گؤکشی بل لانے کی ضرورت نہیں۔ ریاست میں انسداد گؤکشی قانون جاری میں ہے۔ ایک فرقہ کو نشانہ بناتے ہوئے اس بل کو متعارف کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کانگریس لیبر لاء، لینڈ ریفارمس قانون اور اے پی ایم سی قانون کی مخالفت کرے گی۔


Share: